9 اشعار

خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں

Khayal-o-khwab ke saye mein hum rahe barson

خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں

«خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوںبڑھے نہ آگے در کوئے یار سے برسوں

چلی ہے اہل جنوں کی خدائے کعبہ سےکہ اس دیار میں بھٹکے ہیں دل جلے برسوں

تیرے بغیر وہ بدلی زیست کہ ہماسیر حلقہ زنجیر غم رہے برسوں

بساطِ غم نہ اٹھائی حیات تیرہ نےکچھ ایسے دور ہوئے ہم نہ مل سکے برسوں

گزر بہار کا ہوتا رہا ادھر لیکنتہی حیات سے دامان گل رہے برسوں

رہے اک عمر اسیر خیال سود و زیانبڑھا کئے من و منزل میں فاصلے برسوں

رہے جنوں ہی جہاں رہنمائے ہوش و خردمیرے قریب نہ آئے وہ مرحلے برسوں

کبھی تو ان کا گزر ہو اس انتظار میں ہمچراغ راہ بنے اور جلا کئے برسوں

انہی کے ساتھ گئی عرش روح بزم طربکٹے کٹے سے نظر آئے میکدے برسوں

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں