7 اشعار

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے

Dilon par khauf bhi taari bohot hai

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے

«دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہےمگر جنگوں کی تیاری بہت ہے

خرد کی بستیوں کے پھونکنے کوجنوں کی ایک چنگاری بہت ہے

سبھی زد میں ہیں دشت و کوہ و انساںیہ ضرب وقت ہے کاری بہت ہے

پرانا خشک پتا کہہ رہا تھاہوا میں تیز رفتاری بہت ہے

ہم اپنے دل کی دنیا دیکھتے ہیںہمیں یہ شغل بیکاری بہت ہے

چلے ہو اس سے ملنے پر یہ سن لواسے شوق دل آزاری بہت ہے

نہیں ہے ساتھ رہنا گرچہ آساںبچھڑنے میں بھی دشواری بہت ہے

— اسعد بدایونی