7 اشعار

سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہو

Safar bhi koi na ho rahguzar bhi koi na ho

سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہو

«سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہو» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہوہمارے بعد خراب اس قدر بھی کوئی نہ ہو

سب اس ہجوم میں گم ہونا چاہتے ہیں جہاںپتا ٹھکانہ بھی خیر و خبر بھی کوئی نہ ہو

خدا وہ دن نہ دکھائے کہ ان دیاروں میںسب آنکھیں رکھتے ہوں اور دیدہ ور بھی کوئی نہ ہو

زمانہ کاش نہ آئے کہ پھول پھل کے بغیرفقط گھروں کا ہو جنگل شجر بھی کوئی نہ ہو

زمیں نہ بین کرے مہربان ماں کی طرحکرو کچھ ایسا کسی کا ضرر بھی کوئی نہ ہو

پھر اس جہان میں کیسے رہیں کہاں جائیںوطن بھی کوئی نہ ہو اور گھر بھی کوئی نہ ہو

ہمیں زمیں پہ اتارا گیا زوال کے وقتیہی بجا ہے تو پھر نوحہ گر بھی کوئی نہ ہو

— اسعد بدایونی