4 اشعار

مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

Mere log khaima-e-sabr mein mere shahar gard-e-malaal mein

مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

«مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میںابھی کتنا وقت ہے اے خدا ان اداسیوں کے زوال میں

کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیایوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں

کہیں گردشوں کے بھنور میں ہوں کسی چاک پر میں چڑھا ہواکہیں میری خاک جمی ہوئی کسی دشت برف مثال میں

یہ ہوائے غم یہ فضائے نم مجھے خوف ہے کہ نہ ڈال دےکوئی پردہ میری نگاہ پر کوئی رخنہ تیرے جمال میں

— اسعد بدایونی