5 اشعار

روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے

Roshni mein kis qadar deewar o dar achhe lage

روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے

«روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگےشہر کے سارے مکاں سارے کھنڈر اچھے لگے

پہلے پہلے میں بھی تھا امن و اماں کا معترفاور پھر ایسا ہوا نیزوں پہ سر اچھے لگے

جب تلک آزاد تھے ہر اک مسافت تھی وبالجب پڑی زنجیر پیروں میں سفر اچھے لگے

دائرہ در دائرہ پانی کا رقص جاوداںآنکھ کی پتلی کو دریا کے بھنور اچھے لگے

کیسے کیسے مرحلے سر تیری خاطر سے کئےکیسے کیسے لوگ تیرے نام پر اچھے لگے

— اسعد بدایونی