8 اشعار

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا

Nazar utha ke jo dekha udhar koi bhi na tha

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا

«نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھاسلگتی دھوپ کی سرحد پہ گھر کوئی بھی نہ تھا

ہر ایک جسم تھا اک پوسٹر شعاعوں کاسلگتے دشت میں ٹھنڈا شجر کوئی بھی نہ تھا

چمکتے دن میں تو سب لوگ ساتھ تھے لیکناداس شب میں مرا ہم سفر کوئی بھی نہ تھا

ہر ایک شہر میں تھا اضطراب کا آسیبجہاں سکون ہو ایسا نگر کوئی بھی نہ تھا

سبھی کو فن جراحت سے واقفیت تھیہماری طرح وہاں بے ہنر کوئی بھی نہ تھا

سب اپنے کمروں میں مستی کی نیند سوئے تھےسیاہ شب میں سر رہ گزر کوئی بھی نہ تھا

جو تلخ شام کے سایوں کو قتل کر دیتاتمام شہر میں اتنا نڈر کوئی بھی نہ تھا

مرے زوال کی سب کو تھی آرزو اسعدؔمرے کمال سے خوش دل مگر کوئی بھی نہ تھا

— اسعد بدایونی