6 اشعار

وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا

Waqt ek darya hai darya sab baha le jaayega

وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا

«وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گاہم مگر تنکے ہیں ہم تنکوں سے کیا لے جائے گا

اک عجب آشوب ہے کیوں بستیوں میں جلوہ گرکیا یہ ہر انسان سے خوف خدا لے جائے گا

ہے تو خورشید حقیقت پر بڑا بے مہر ہےدل سے جذبے آنکھ سے آنسو چرا لے جائے گا

بوریے پر بیٹھنے کا لطف ہی کچھ اور ہےشہریار عصر اس تکیے سے کیا لے جائے گا

ہر گزر گاہ تمنا پر بہت سی گرد ہےلیکن اس کو ایک ہی جھونکا اڑا لے جائے گا

عافیت کے دائروں میں یار سارے بند ہیںکوئی موسم کوئی طوفاں اس سے کیا لے جائے گا

— اسعد بدایونی