6 اشعار

پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمت

Puraane ghar se nikal kar naye makaan ki simt

پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمت

«پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمت» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمتبہت سے لوگ گئے اک عجب جہان کی سمت

پکارتا ہے جو صدیوں سے ہم کو اے یاروچلو چلے چلیں اس ٹوٹے سائبان کی سمت

جو ایک عمر سے رہتا تھا برف زاروں میںچلا ہے کس لیے جلتی ہوئی چٹان کی سمت

ملا تھا راہ میں بیٹھا جو ایک دن ہم کوسنا ہے جا چکا وہ شخص آسمان کی سمت

مرا جہاز جو پہنچے گا اس جزیرے میںنہ کوئی غور سے دیکھے گا بادبان کی سمت

کبھی جو سوچا ہے حق بات کہہ دوں اے اسعدؔبڑھی ہیں قینچیاں کتنی مری زبان کی سمت

— اسعد بدایونی