5 اشعار

ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے

Har ek yaqeen ko hum ne gumaan bana diya hai

ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے

«ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہےتھے جس زمیں پہ اسے آسماں بنا دیا ہے

ہم ایسے خانہ خرابوں سے اور کیا بنتاکسی سے سلسلۂ ربط جاں بنا دیا ہے

ہمارے شعر ہمارے خیال کچھ یوں ہیںخلا میں جیسے کسی نے مکاں بنا دیا ہے

محبتوں کے امینوں کی ہیں وہ آوازیںکہ جن کو خلق نے شور سگاں بنا دیا ہے

زمیں تو پوری طرح ہم بھی دیکھ سکتے ہیںفلک کو اس نے مگر بے کراں بنا دیا ہے

— اسعد بدایونی