6 اشعار

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں

Shab siyah se jo istifada karte hain

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں

«شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیںوہی چراغوں کا ماتم زیادہ کرتے ہیں

دلوں کا درد کہاں جام میں اترتا ہےحریف وقت کو ہم غرق بادہ کرتے ہیں

پرانی تلخیاں دامن بہت پکڑتی ہیںکبھی نیا جو کوئی ہم ارادہ کرتے ہیں

پڑی تھی دل کی زمیں جانے کب سے بے مصرفاب اس میں یادوں کے بت ایستادہ کرتے ہیں

عجیب دور ہے یہ جس میں سارے دانشوردلوں کو تنگ مکاں کو کشادہ کرتے ہیں

یہ آسمان وطن کیوں ردا ہماری ہےہم اس زمین کو کیسے لبادہ کرتے ہیں

— اسعد بدایونی