8 اشعار

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں

Seene mein un ke jalwe chhupaye hue to hain

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں

«سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیںہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں

تاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیںہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں

ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دلدیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں

تیرے گناہ گار گنہ گار ہی سہیتیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں

اللہ ری کامیابی آوارگان عشقخود گم ہوئے تو کیا اسے پائے ہوئے تو ہیں

یوں تجھ کو اختیار ہے تاثیر دے نہ دےدست دعا ہم آج اٹھائے ہوئے تو ہیں

ذکر ان کا گر زباں پہ نہیں ہے تو کیا ہوااب تک نفس نفس میں سمائے ہوئے تو ہیں

مٹتے ہوؤں کو دیکھ کے کیوں رو نہ دیں مجازؔآخر کسی کے ہم بھی مٹائے ہوئے تو ہیں

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں