14 اشعار

عشرت تنہائی

Khud dil mein reh ke aankh se parda kare koi

عشرت تنہائی

«عشرت تنہائی» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوارمحفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار

ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکارنغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں

کتنے دلکش مرے بت خانۂ ایماں کے صنموہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم

میں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرممرکز مرحمت محفل خوباں ہوں میں

موجزن ہے مئے عشرت مرے پیمانوں میںیاس کا درد ہے کم تر مرے افسانوں میں

کامرانی ہے پرافشاں مرے رومانوں میںیاس کی سعئ جنوں خیز پہ خنداں ہوں میں

میرے افکار میں مہتاب کی طلعت غلطاںمیری گفتار میں ہے صبح کی نزہت غلطاں

میرے اشعار میں ہے پھولوں کی نکہت غلطاںروح گل زار ہوں میں جان گلستاں ہوں میں

لاکھ مجبور ہوں میں ذوق خود آرائی سےدل ہے بیزار اب اس عشرت تنہائی سے

آنکھ مجبور نہیں ہے مری بینائی سےمحرم درد و غم عالم انساں ہوں میں

کیوں نہ چاہوں کہ ہر اک ہاتھ میں پیمانہ ہویاس و محرومی و مجبوری اک افسانہ ہو

عام اب فیض مے و ساقی و مے خانہ ہورند ہوں اور جگر گوشۂ رنداں ہوں میں

اب یہ ارماں کہ بدل جائے جہاں کا دستورایک اک آنکھ میں ہو عیش و فراغت کا سرور

ایک اک جسم پہ ہو اطلس و کمخواب و سموراب یہ بات اور ہے خود چاک گریباں ہوں میں

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں