7 اشعار

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

Khud dil mein rah ke aankh se parda kare koi

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

«خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئیہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی

تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیاکس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی

دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کیاس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خودان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

رنگینی نقاب میں گم ہو گئی نظرکیا بے حجابیوں کا تقاضا کرے کوئی

یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہویا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی

ہوتی ہے اس میں حسن کی توہین اے مجازؔاتنا نہ اہل عشق کو رسوا کرے کوئی

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں