8 اشعار

شرارے

Sharare

شرارے

«شرارے» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

خود کو بہلانا تھا آخر خود کو بہلاتا رہامیں بہ ایں سوز دروں ہنستا رہا گاتا رہا

مجھ کو احساس فریب رنگ و بو ہوتا رہامیں مگر پھر بھی فریب رنگ و بو کھاتا رہا

میری دنیائے وفا میں کیا سے کیا ہونے لگااک دریچہ بند مجھ پر ایک وا ہونے لگا

اک نگار ناز کی پھرنے لگیں آنکھیں مجازؔاک بت کافر کا دل درد آشنا ہونے لگا

عین ہنگام طرب روح طرب تھرا گئیدفعتاً دل کے افق پر اک گھٹا سی چھا گئی

ایک آغوش تمنا کا تقاضا دیکھ کرایک دل کی سرد مہری بھی مجھے یاد آ گئی

مجرم سرتابی حسن جواں ہو جائیےگل فشانی تا کجا شعلہ فشاں ہو جائیے

کھائیے گا اک نگاہ لطف کا کب تک فریبکوئی افسانہ بنا کر بد گماں ہو جائیے

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں