6 اشعار

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

Aaj tak phirta raha main tujh mein hi khoya hua

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

«آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہواتجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا

زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوامدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا

دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہےپھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا

تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک اجنبیایسے لگتا ہے یہ منظر ہے مرا دیکھا ہوا

ریزہ ریزہ ہو گیا میں تو نے جب آواز دیتیری خاموشی سے تھا میں اس قدر ٹوٹا ہوا

کتنی یادیں آنسوؤں میں تھرتھرا کر رہ گئیںاس نے جب پوچھا کہو آزادؔ تم کو کیا ہوا

— آزاد گلاٹی