7 اشعار

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

Bahut lamba safar tapti sulagti khwahishon ka tha

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

«بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھامگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا

سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھامگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا

کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کرکہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا

کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ہوئی خوشیاںکرشمہ جو بھی تھا سارا ہماری ہی حسوں کا تھا

خود اپنی کاوشوں سے ہم نے اپنی قسمتیں لکھیںمگر کچھ ہاتھ ان میں بھی ہمارے دشمنوں کا تھا

نئے رشتے مقدس خواب سے آواز دیتے تھےمگر آسیب سا دل پر گزشتہ رابطوں کا تھا

کسے ملتی نجات آزادؔ ہستی کے مسائل سےکہ ہر کوئی مقید آب و گل کے سلسلوں کا تھا

— آزاد گلاٹی