9 اشعار

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

Mera to naam reit ke sagar pe naqsh hai

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

«میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہےپھر کس کا نام ہے جو ترے در پہ نقش ہے

پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھجو کچھ لہو میں تھا اسی پتھر پہ نقش ہے

شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھیتیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے

تیرا خیال مجھ سے گو مل کر بچھڑ گیااس کی مہک کا عکس مرے گھر پہ نقش ہے

میرے خطوں کو رکھ کے سرہانے وہ سو گیاجاگا تو میرے جسم کا بستر پہ نقش ہے

اب اس میں جو بھی ڈالئے امرت سے کم نہیںجو ان لبوں پہ تھا وہی ساغر پہ نقش ہے

جو زخم اک نظر سے ملا تھا وہ بھر گیادھندلا سا داغ روح کے پیکر پہ نقش ہے

خنجر چلا تھا مجھ پہ مگر معجزہ ہے یہقاتل کا اپنا خون ہی خنجر پہ نقش ہے

آزادؔ کون تھا جو تہوں میں اتر گیاکس کی حیات ہے جو سمندر پہ نقش ہے

— آزاد گلاٹی