6 اشعار

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

Woh jo kisi ka roop dhaar kar aaya tha

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

«وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھامیرے اندر بسنے والا سایا تھا

وہ دکھ بھی کیوں ہم کو تنہا چھوڑ گئےکیا کیا چھوڑ کے ہم نے جنہیں اپنایا تھا

خود تم نے دروازے بند رکھے ورنہمیں اک تازہ ہوا کا جھونکا لایا تھا

میری اک آواز سے ساری ٹوٹ گئیوہ دیواریں جن پر تو اترایا تھا

ویراں دل میں غم کے پریت بھٹکتے تھےمیری چپ پر کسی صدا کا سایا تھا

اس میں ایک جنم بھر کے دکھ سمٹے تھےوہ آنسو جو پلکوں پر لہرایا تھا

— آزاد گلاٹی