8 اشعار

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج

Din mein is tarah mere dil mein samaya suraj

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج

«دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورجرات آنکھوں کے افق پر ابھر آیا سورج

اپنی تو رات بھی جلتے ہی کٹی دن کی طرحرات کو سو تو گیا دن کا ستایا سورج

صبح نکلا کسی دلہن کی دمک رخ پہ لیےشام ڈوبا کسی بیوہ سا بجھایا سورج

رات کو میں مرا سایا تھے اکٹھے دونوںلے گیا چھین کے دن کو مرا سایا سورج

دن گزرتا نہ تھا کم بخت کا تنہا جلتےوادئ شب سے مجھے ڈھونڈ کے لایا سورج

تو نے جس دن سے مجھے سونپ دیا ظلمت کوتب سے دن میں بھی نہ مجھ کو نظر آیا سورج

آسماں ایک سلگتا ہوا صحرا ہے جہاںڈھونڈھتا پھرتا ہے خود اپنا ہی سایا سورج

دن کو جس نے ہمیں نیزوں پہ چڑھائے رکھاشب کو ہم نے وہی پلکوں پہ سلایا سورج

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں