6 اشعار

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

Hamari aankh mein thehra hua samandar tha

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

«ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھامگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا

اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کروہ پھول جو کہ تری دسترس سے باہر تھا

وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گیملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا

ہر ایک انگ لبالب بھرا ہو جیسے جامتمہارا جسم تھا یا مے کدے کا منظر تھا

اسے بھی جاتے ہوئے تم نے مجھ سے چھین لیاتمہارا غم تو مری آرزو کا زیور تھا

بہت قریب سے دیکھا تھا اس کو اے آزادؔوہ آرزو کا مری اک حسین پیکر تھا

— آزاد گلاٹی