7 اشعار

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

Har ik shikast ko ae kaash is tarah main sahoon

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں

«ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوں» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہر اک شکست کو اے کاش اس طرح میں سہوںفزوں ہو اور بھی دل میں تری طلب کا فسوں

تمہارے جسم کی جنت تو مل گئی ہے مگرمیں اپنی روح کی دوزخ کا کیا علاج کروں

ہنسا ہوں آج تو مجبور تھا کہ تیرے حضورمجھے یہ ڈر تھا اگر چپ رہا تو رو نہ پڑوں

تمام عمر نہ بھٹکے کہیں تو میری طرحہوں کشمکش میں جو کہنا ہے وہ کہوں نہ کہوں

نہ اب پکار مجھے مدتوں کی دوری سےترے قریب نہیں ہوں کہ تیری بات سنوں

تری تلاش کو نکلوں گا اس سے پہلے مگرمیں تیری یاد کے صحرا میں خود کو ڈھونڈ تو لوں

وہ دیکھ لے تو نہ روئے بنا رہے آزادؔمیں سوچتا ہوں کہ اک بار خود پہ یوں بھی ہنسوں

— آزاد گلاٹی