6 اشعار

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

Karb hare mausam ka tab tak sehna padta hai

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

«کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہےپت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے

کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گےکسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے

صرف اندھیرے ہی سے دیے کی جنگ نہیں ہوتیتیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے

سہی سلامت آگے بڑھتے رہنے کی خاطرکبھی کبھی تو خود بھی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے

شعر کہیں تو عقل و جنوں کی سرحد پر رک کرلفظوں میں جذبوں کے نگوں کو جڑنا پڑتا ہے

جیون جینا اتنا بھی آسان نہیں آزادؔسانس سانس میں ریزہ ریزہ کٹنا پڑتا ہے

— آزاد گلاٹی