5 اشعار

جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر

Jo gham mein jalte rahe umr bhar diya ban kar

جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر

«جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کر» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

جو غم میں جلتے رہے عمر بھر دیا بن کربجھا گئی ہے انہیں موت اب ہوا بن کر

وہ خامشی جو تری بزم نے ہمیں بخشیخلائے ذہن میں گونجی ہے اک صدا بن کر

جو تو نے مجھ کو غم لا زوال بخشا تھاوہ زندگی میں رہا میرا رہنما بن کر

وہ جن کے لمس سے تو کھل کے پھول بنتا تھاوہ اب بھٹکتے ہیں در پر ترے صبا بن کر

جب ان کی بزم سے لوٹے تو خود کو پہچاناوہاں سے آئے ہم آزادؔ کیا سے کیا بن کر

— آزاد گلاٹی