6 اشعار

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی

Lamha lamha ek nayi sa'i-e-baqa karti hui

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی

«لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئیکٹ رہی ہے زندگی خود کو فنا کرتی ہوئی

تیری چپ ہے یا مرے اندر مچا کہرام ہےکوئی شے تو ہے زباں کو بے نوا کرتی ہوئی

اپنے اندر ریزہ ریزہ ٹوٹ کر بکھرا ہوں میںہے یہ کیا شے چور دل کا آئنا کرتی ہوئی

کشت جاں سے دن کو کٹتی ہے نئے زخموں کی فصلرات آتی ہے انہیں پھر سے ہرا کرتی ہوئی

میرے ہونے سے نہ ہونے کا سبب پیدا ہوامجھ کو ہستی ہی تھی خود مجھ سے جدا کرتی ہوئی

موت تو آزادؔ ہے آزادیوں کا اک جہاںزندگی ہے ہر نفس خود کو رہا کرتی ہوئی

— آزاد گلاٹی