8 اشعار

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

Kabhi mili jo tere dard ki nawa mujh ko

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

«کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کوخموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو

بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کومیں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو

میں اپنی ذات کی ہم سائیگی سے ڈرتا ہوںمرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو

میں چپ ہوں اپنی شکست صدا کی وحشت پرمجھے نہ بولنا پڑ جائے مت بلا مجھ کو

یہ میں تھا یا مرے اندر کا خوف تھا جس نےتمام عمر دی تنہائی کی سزا مجھ کو

بھٹک رہا ہوں میں بے سمت راستوں کی طرحکسی بھی سمت کا ہو راستہ دکھا مجھ کو

ہر اک نے دیکھا مجھے اپنی اپنی نظروں سےکوئی تو میری نظر سے بھی دیکھتا مجھ کو

سمو کے آنکھوں میں امڈی گھٹائیں اے آزادؔوہ ایک درد کا صحرا بنا گیا مجھ کو

— آزاد گلاٹی