7 اشعار

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

Khud hamein ko rahton ke kaif ka chaska na tha

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا

«خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھا» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

خود ہمیں کو راحتوں کے کیف کا چسکا نہ تھازندگی کا زہر ورنہ اس قدر کڑوا نہ تھا

اس نے تنہائی سے گھبرا کر پکارا تو نہیںاس سے پہلے تو مرا دل اس طرح دھڑکا نہ تھا

ہائے وہ عالم کہ ان کی بزم میں بھی بیٹھ کرمیں یہی سوچا کیا میں تو کبھی تنہا نہ تھا

اس کے اپنے ہاتھ رخساروں کو سہلانے لگےگو بظاہر میری بابت اس نے کچھ سوچا نہ تھا

ہر طرف کھلتی رہیں کلیاں نسیم صبح سےاپنی قسمت میں صبا کا ایک بھی جھونکا نہ تھا

زندگی اے زندگی!! آ دو گھڑی مل کر رہیںتجھ سے میرا عمر بھر کا تو کوئی جھگڑا نہ تھا

سوچتے ہیں اب اسے آزادؔ ہم کیا نام دیںعمر کا وہ دور دل میں جب کوئی سودا نہ تھا

— آزاد گلاٹی