7 اشعار

ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے

Sahil pe ruk ke su-e-samandar na dekhiye

ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے

«ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیےباہر سے اپنے آپ کا منظر نہ دیکھیے

اپنے وجود ہی پہ نہ گزریں کئی شکوکسائے کو اپنے قد کے برابر نہ دیکھیے

جاگے تو محض ریت ہی پائیں گے ہر طرفگر ہو سکے تو خواب میں ساگر نہ دیکھیے

اپنے ہی سر کے زخم کا کچھ کیجیے علاجآیا ہے کس طرف سے یہ پتھر نہ دیکھیے

یکجا نہ کرنے آئے گا کوئی تمام عمرخوش فہمیوں سے خود میں بکھر کر نہ دیکھیے

پھر یوں نہ ہو کہ اپنا بدن اجنبی لگےبہتر ہے اس کے خول سے باہر نہ دیکھیے

آزادؔ جی ڈرائے گا پرچھائیوں کا خوفویراں نظر سے کوئی بھی منظر نہ دیکھیے

— آزاد گلاٹی