10 اشعار

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

Tumhare paas rahein hum to maut bhi kya hai

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے

«تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہے» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تمہارے پاس رہیں ہم تو موت بھی کیا ہےمگر جو دور کٹے تم سے زندگی کیا ہے

جب اٹھ کے چل دیئے تم تیرگی امڈ آئیجو تم نہ ہو تو چراغوں کی روشنی کیا ہے

کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سےجو کھل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے

بس ان کی یاد کے ہم پاؤں چوم لیتے ہیںہمیں خبر نہیں معراج بندگی کیا ہے

کبھی جو گوش بر آواز ہو کے اس کو سنوتمہیں پتہ بھی چلے ساز خامشی کیا ہے

مری نگاہ نے کیا کیا نہ خواب دیکھے ہیںتری نگاہ نے اک بات سی کہی کیا ہے

ہمیں نے ظلمت ہستی میں دل جلائے ہیںیہ ہم سمجھتے ہیں درمان تیرگی کیا ہے

ابھر رہی ہے جو رہ رہ کے دل کی دھڑکن میںوہ آرزو ہے کہ ہے اس کی بے بسی کیا ہے

خزاں نصیب ہوں نظریں جو اہل گلشن کیتو پھر بہار کے جلووں کی تازگی کیا ہے

جہاں میں یہ کبھی مجبور ہے کبھی مختارہے ایک شعبدہ آزادؔ آدمی کیا ہے

— آزاد گلاٹی