7 اشعار

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

Umr bhar chalte rahe hum waqt ki talwar par

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

«عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر» آزاد گلاٹی کا کلام ہے، جسے غلام الدین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی» میں 19 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پرپرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر

چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیافخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر

رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھرتیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر

شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیںموت کا سایا سا منڈلانے لگا اشجار پر

خلوت شب میں یہ اکثر سوچتا کیوں ہوں کہ چاندنور کا بوسہ ہے گویا رات کے رخسار پر

سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میںکچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر

زندگی آزاد پہلے یوں کبھی تنہا نہ تھیآدمی بہتا تھا یوں ہی وقت کی رفتار پر

— آزاد گلاٹی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں