9 اشعار

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

Hum ye to nahin kehte ke gham keh nahin sakte

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

«ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتےپر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے

ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیااس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے

رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں توہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے

کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گرجو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے

ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاریشربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے

جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہمرک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے

اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنادے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے

طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعناہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے

جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کےگزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے

— بہادرشاہ ظفر