7 اشعار

خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو

Khwah kar insaf zalim khwah kar bedad tu

خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو

«خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد توپر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد تو

دم بدم بھرتے ہیں ہم تیری ہوا خواہی کا دمکر نہ بد خوؤں کے کہنے سے ہمیں برباد تو

کیا گنہ کیا جرم کیا تقصیر میری کیا خطابن گیا جو اس طرح حق میں مرے جلاد تو

قید سے تیری کہاں جائیں گے ہم بے بال و پرکیوں قفس میں تنگ کرتا ہے ہمیں صیاد تو

دل کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھےیاد کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو

دل ترا فولاد ہو تو آپ ہو آئینہ وارصاف یک باری سنے میری اگر روداد تو

شاد و خرم ایک عالم کو کیا اس نے ظفرؔپر سبب کیا ہے کہ ہے رنجیدہ و ناشاد تو

— بہادرشاہ ظفر