9 اشعار

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

Kya kahoon dil mail-e-zulf-e-do-ta kyunkar hua

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

«کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوایہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا

جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یاران کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا

دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پاہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا

نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہاکیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا

خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبارخاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا

جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا

تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آب دارجو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا

جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میںتم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا

وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔپر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا

— بہادرشاہ ظفر