7 اشعار

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

Kya kuchh na kiya aur hain kya kuchh nahin karte

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

«کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتےکچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے

اپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہےہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے

معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسااوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے

گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورتپر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے

وہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکنتاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے

دل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پرتم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے

کرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیںظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے

— بہادرشاہ ظفر