9 اشعار

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

Kyun kar na khaksar rahen ahl-e-kīñ se duur

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

«کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دوردیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور

پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاںکیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور

مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقمہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور

گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھیجائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور

وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاسلیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور

حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہجو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور

یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میںوہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور

منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سےپہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور

دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔانساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

— بہادرشاہ ظفر