7 اشعار

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

Kyunke hum duniyā mein aaye kuchh sabab khulta nahīñ

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں

«کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیںاک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں

پوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کےغنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں

شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیےبند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں

بند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرااس کا دروازہ پری رو روز و شب کھلتا نہیں

دل ہے یہ غنچہ نہیں ہے اس کا عقدہ اے صباکھولنے کا جب تلک آوے نہ ڈھب کھلتا نہیں

عشق نے جن کو کیا خاطر گرفتہ ان کا دللاکھ ہووے گرچہ سامان طرب کھلتا نہیں

کس طرح معلوم ہووے اس کے دل کا مدعامجھ سے باتوں میں ظفرؔ وہ غنچہ لب کھلتا نہیں

— بہادرشاہ ظفر