5 اشعار

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

Lagta nahīñ hai dil merā ujre dayār mein

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

«لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںکس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیںاتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباںیہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہقسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیےدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

— بہادرشاہ ظفر