9 اشعار

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

Maiñ hūñ a'asī ke pur-khatā kuchh hūñ

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

«میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوںتیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں

جزو و کل کو نہیں سمجھتا میںدل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں

تجھ سے الفت نباہتا ہوں میںبا وفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں

جب سے ناآشنا ہوں میں سب سےتب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں

نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھےاب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں

خواب میرا ہے عین بیداریمیں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں

گرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکناس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں

سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھےخاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں

چشم الطاف فخر دیں سے ہوںاے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں

— بہادرشاہ ظفر