9 اشعار

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

Mar ga'e ai vāh un kī nāz-bardārī mein ham

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

«مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم» بہادرشاہ ظفر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہمدل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم

سب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میںشمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم

یاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیالبے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم

جب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گلمثل شبنم ہیں ہمیشہ گریہ و زاری میں ہم

چشم و دل بینا ہے اپنے روز و شب اے مردماںگرچہ سوتے ہیں بظاہر پر ہیں بیداری میں ہم

دوش پر رخت سفر باندھے ہے کیا غنچہ صبادیکھتے ہیں سب کو یاں جیسے کہ تیاری میں ہم

کب تلک بے دید سے یا رب رکھیں چشم وفالگ رہے ہیں آج کل تو دل کی غم خواری میں ہم

دیکھ کر آئینہ کیا کہتا ہے یارو اب وہ شوخماہ سے صد چند بہتر ہیں ادا داری میں ہم

اے ظفرؔ لکھ تو غزل بحر و قوافی پھیر کرخامۂ در ریز سے ہیں اب گہر باری میں ہم

— بہادرشاہ ظفر