5 اشعار

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں

Charagh-e-hasrat-o-armaan bujha ke baithe hain

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں

«چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیںہر ایک طرح سے خود کو جلا کے بیٹھے ہیں

نہ کوئی راہ گزر ہے نہ کوئی ویرانہغم حیات میں سب کچھ لٹا کے بیٹھے ہیں

جنوں کی حد ہے کہ ہوش و خرد کی منزل ہےخبر نہیں ہے کہاں آج آ کے بیٹھے ہیں

کبھی جو دل نے کہا اب چلو یہاں سے چلیںتو اٹھ کے عالم وحشت میں جا کے بیٹھے ہیں

یہ کس جگہ پہ قدم رک گئے ہیں کیا کہیےکہ منزلوں کے نشاں تک مٹا کے بیٹھے ہیں

— باقر مہدی