10 اشعار

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

Jo zamane ka hum-zabaan na raha

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

«جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہاوہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا

اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیںہم کو اب خوف آسماں نہ رہا

جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیںکیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا

ایسی بیگانگی نہیں دیکھیاب کسی کا کوئی یہاں نہ رہا

ہر جگہ بجلیوں کی یورش ہےکیا کہیں اپنا آشیاں نہ رہا

مفلسی کیا گلہ کریں تجھ سےساتھ تیرا کہاں کہاں نہ رہا

حسرتیں بڑھ کے چومتی ہیں قدممنزلوں کا کوئی نشاں نہ رہا

خون دل اپنا جل رہا ہے مگرشمع کے سر پہ وہ دھواں نہ رہا

غم نہیں ہم تباہ ہو کے رہےحادثہ بھی تو ناگہاں نہ رہا

قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھےجب کوئی میر کارواں نہ رہا

— باقر مہدی