6 اشعار

ریت اور درد

Ret aur dard

ریت اور درد

«ریت اور درد» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

مدتیں گزریں مرے دل کو ہوئے ویرانہآندھیاں بھی نہیں آتیں

کہ اڑے ریت مٹے نقش سراباور اک درد کا چشمہ

مندمل زخموں سے پھوٹے نئی خنکی لے کرپیاس جاگ اٹھے سکوت دل مضطر ٹوٹے

تاکہ میں دیکھ سکوںاپنی بے خواب سی آنکھوں سے وہ منظر اک دن

ریت کے تودے فضاؤں میں اڑے جاتے ہیںاور خوش ہو کے کہوں

زندگی ریت سہی درد کا چشمہ بھی تو ہے

— باقر مہدی