7 اشعار

خامشی

Khamoshi

خامشی

«خامشی» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کوئی امیج کسی بات کا حسیں سایہنئے پرانے خیالوں کا اک اچھوتا میل

کسی کی یاد کا بھٹکا ہوا کوئی جگنوکسی کے نیلے سے کاغذ پہ چند ادھورے لفظ

بغاوتوں کا پرانا گھسا پٹا نعرہکسی کتاب میں زندہ مگر چھپی امید

پرانی غزلوں کی اک راکھ بے دلی ایسیخود اپنے آپ سے الجھن عجیب بے زاری

غرض کہ موڈ کے سو رنگ آئینے پرتومگر یہ کیا ہوا اب کچھ بھی لکھ نہیں سکتا

نہ جانے کب سے یہ بے معنی خامشی بے محیطخود اپنے سائے سے میں چھٹ گیا ہوں یا شاید

کہیں میں لفظوں کی دنیا کو چھوڑ آیا ہوں

— باقر مہدی