10 اشعار

دھرتی کا بوجھ

Dharti ka bojh

دھرتی کا بوجھ

«دھرتی کا بوجھ» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

ایک چہل قدمی کے لیے گلی بنیسمندر کے پاس یہ پھولوں کی کلی بنی

میں بھی بھولے سے یہاں آ جاتا ہوںمیری عمر چلنے پھرنے گھومنے کی نہیں ہے

عورتیں بچے اور دو اک بوڑھے بھی آتے ہیںمیں یوں ہی کچھوے کی چال کی طرح

آہستہ آہستہ آیا تھااک جھاڑی کے پیچھے دو سائے ہم آغوش تھے

ایک نے بہ آواز بلند کہا:کیا تم نے اس بوڑھے کو دیکھا؟

ہنسنے کی آواز آئییہ بوڑھا دھرتی کا بوجھ ہے

میں نے سنا مگر چپ چاپ چلتا گیااس نے شاید صحیح کہا یہ عمر چلنے پھرنے کی نہیں ہے

مگر میں کیا کروں ڈاکٹر نے مجھے سو قدم چلنے کو کہا ہےمیں شروع سے زندگی میں دھرتی کا بوجھ تھا

میں نے جوانی کرم کتابی بن کے گزاری ہےمیں نے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھا ہے

زندگی میں علم کی جستجو سب کچھ نہیں ہےیہ مجھے تب معلوم ہوا جب میں دھرتی کا بوجھ بن گیا تھا

— باقر مہدی