9 اشعار

ایسا وار پڑا سر کا

Aisa waar pada sar ka

ایسا وار پڑا سر کا

«ایسا وار پڑا سر کا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

ایسا وار پڑا سر کابھول گئے رستہ گھر کا

زیست چلی ہے کس جانبلے کاسہ کاسہ مر کا

کیا کیا رنگ بدلتا ہےوحشی اپنے اندر کا

دل سے نکل کر دیکھو توکیا عالم ہے باہر کا

سر پر ڈالی سرسوں کیپاؤں میں کانٹا کیکر کا

کون صدف کی بات کرےنام بڑا ہے گوہر کا

دن ہے سینے کا گھاؤرات ہے کانٹا بستر کا

اب تو وہ جی سکتا ہےجس کا دل ہو پتھر کا

چھوڑو شعر اٹھو باقیؔوقت ہوا ہے دفتر کا

— باقی صدیقی