5 اشعار

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

Dil se bahar hain khareedar abhi

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

«دل سے باہر ہیں خریدار ابھی» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھی

آدمی ساتھ نہیں دے سکتاتیز ہے سائے کی رفتار ابھی

یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوارہے ترا شہر پر اسرار ابھی

دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسےبیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی

آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔکیا کوئی گل ہے شرربار ابھی

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں