7 اشعار

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا

Teri nigaah ka andaaz kya nazar aaya

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا

«تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا

بہت قریب سے آواز ایک آئی تھیمگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا

یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیںوہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا

یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا

کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میںجہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا

سنو تو کس لیے پتھر اٹھائے پھرتے ہوکہو تو آئینہ خانے میں کیا نظر آیا

یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں