11 اشعار

اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا

Apni tanhai pe mar jaana pada

اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا

«اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑاراہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا

کس طرف سے آئی تھی تیری صداہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا

زندگی ہے ، شورشیں ہی شورشیںخود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا

تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کامشکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا

کوئی دل کی بات کیا کہنے لگےاپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا

راستیمں ی اس قدر تھے حادثاتہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا

زندگی جیسے اسی کا نام ہےاس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا

ہے کلی بے تاب کھلنیکے لیےاور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا

زندگی کا راز پانے کے لیےزندگی کی راہ میں آنا پڑا

راستے سے اس قدر تھے بے خبرمل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا

دوستوں کی بے رخی باقیؔ نہ پوچھدشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں