7 اشعار

اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا

Is kār-gah-e-rañg meñ ham tang nahīñ kiyā

اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا

«اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا

تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتیاس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا

ہے حلقۂ جاں اپنی وفاؤں کا تصوراس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا

ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہاپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا

بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیںاب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا

زخم دل بے تاب ہے ہاتھوں میں نوالہاس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا

وہ رنگ نہیں شعلۂ احساس میں باقیؔہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں