9 اشعار

وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی

Woh nazar aa.īna-e-fitrat hī sahī

وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی

«وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

زندگی داغ محبت ہی سہیآپ سے دور کی نسبت ہی سہی

تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتیایک لمحے کی مسافت ہی سہی

دل محبت کی ادا چاہتا ہےایک آنسو دم رخصت ہی سہی

آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرامزہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی

اپنی تقدیر میں سناٹا ہےایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی

اس قدر شور طرب کیا معنیجاگنے کی مجھے عادت ہی سہی

بزم رنداں سے تعلق کیساآپ کی میز پہ شربت ہی سہی

حد‌ منزل ہے مقرر باقیؔرہرو شوق کو عجلت ہی سہی

— باقی صدیقی