6 اشعار

ہم کہاں آئنہ لے کر آئے

Hum kahan aaina le kar aaye

ہم کہاں آئنہ لے کر آئے

«ہم کہاں آئنہ لے کر آئے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

ہم کہاں آئنہ لے کر آئےلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے

دل کے ملبے میں دبا جاتا ہوںزلزلے کیا مرے اندر آئے

جلوہ جلوے کے مقابل ہی رہاتم نہ آئینے سے باہر آئے

دل سلاسل کی طرح بجنے لگاجب ترے گھر کے برابر آئے

جن کے سائے میں صبا چلتی تھیپھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے

شعر کا روپ بدل کر باقیؔدل کے کچھ زخم زباں پر آئے

— باقی صدیقی